مواد پر جائیں
CareerBahn

رہنما مضمون · تعلیم

جرمنی میں ماسٹرز: ایڈمیشن کی شرائط اور ڈاکومنٹس

پاکستانی یا انڈین گریجویٹ کو جرمنی میں ماسٹرز کے ایڈمیشن کے لیے کیا چاہیے: 16 سال کی تعلیم، انگریزی یا جرمن کا ثبوت، ڈاکومنٹس اور ڈیڈ لائنز۔

تازہ ترین 7 نومبر، 2026 · قیصر کی ویڈیوز سے لکھا گیا · سرکاری اعداد و شمار ماخذ سے چیک کیے گئے؛ قیصر کے اپنے اندازے الگ سے بتائے گئے ہیں

تمام مضامین · اس موضوع کا حصہ: ڈگری تسلیم کروانا

مختصر جواب: آپ کے پاس مکمل بیچلرز ڈگری ہونی چاہیے (16 سال کی تعلیم، یا دو سال کا بیچلرز اور دو سال کا ماسٹرز)، اس زبان کا ثبوت جس میں پروگرام پڑھایا جاتا ہے، اور ایک مضبوط موٹیویشن لیٹر۔ بہت سی یونیورسٹیاں IELTS کی جگہ میڈیم آف انسٹرکشن (MOI) لیٹر مان لیتی ہیں، لیکن فیصلہ ہر پروگرام خود کرتا ہے۔ زیادہ تر جگہوں پر داخلہ ونٹر سمسٹر کے لیے کھلتا ہے، جو اکتوبر میں شروع ہوتا ہے۔

قیصر کی اسٹڈی ویڈیوز کے نیچے ایک سوال بار بار آتا ہے: کیا IELTS کی جگہ MOI لیٹر کافی ہے؟ مختصر جواب یہ ہے کہ فارمل شرائط آسان ہیں، اور ایڈمیشن انہی سے نہیں ملتا۔ ایڈمیشن اس بات سے ملتا ہے کہ آپ کی پچھلی ڈگری پروگرام سے کتنی میل کھاتی ہے، اور آپ کی اپلیکیشن کتنی مضبوط ہے۔

دو فارمل شرائط، پھر اصل سلیکشن

16 سال کی تعلیم۔ پاکستان سے چار سال کا BS (Hons) یا BE، یا اس کے برابر انڈیا کا بیچلرز، ماسٹرز کے لیے عام شرط پوری کر دیتا ہے۔ قیصر یہ بھی بتاتے ہیں کہ اپنے ملک سے دو سال کا بیچلرز اور اس کے بعد دو سال کا ماسٹرز بھی عموماً مان لیا جاتا ہے۔ آپ کا پچھلا مضمون پروگرام سے متعلق ہونا چاہیے؛ بالکل ایک جیسا ہونا ضروری نہیں۔

پروگرام کی زبان۔ انگریزی میں پڑھائے جانے والے پروگرام کے لیے آپ IELTS، TOEFL، PTE یا Cambridge سرٹیفکیٹ دکھاتے ہیں۔ اگر آپ کا بیچلرز انگریزی میں ہوا ہے اور ان میں سے کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے، تو بہت سی یونیورسٹیاں آپ کی یونیورسٹی کا میڈیم آف انسٹرکشن (MOI) لیٹر مان لیتی ہیں۔ قیصر کے تجربے میں یونیورسٹیوں کی واضح اکثریت ایسا کرتی ہے؛ لیکن آپ کے لیے اصل جواب صرف پروگرام کا ایڈمیشن پیج ہے۔ جرمن زبان والے پروگرام جرمن سرٹیفکیٹ مانگتے ہیں، عموماً C1 لیول کا (مثلاً Goethe یا TestDaF)۔

ایڈمیشن کی سلیکشن کا جو کرائٹیریا ہے، وہ یہ دو چیزیں نہیں ہیں، بلکہ آپ کی موٹیویشن، آپ کا ریلیونٹ ورک ایکسپیرینس یا پھر آپ کا ریسرچ ورک ہوتا ہے۔
قیصر، اپنی ویڈیو میں

اس لیے یہ دو شرائط بس اتنا کرتی ہیں کہ آپ کی درخواست پر غور ہو، اور اپنی محنت موٹیویشن لیٹر اور اس کے پیچھے ثبوت پر لگائیں: پروجیکٹس، انٹرنشپس، اور ایسا تھیسس جو پروگرام سے میل کھاتا ہو۔

ابھی سے تیار کرنے والے ڈاکومنٹس

قیصر کی چیک لسٹ، اسی ترتیب میں جس میں وہ انہیں بنوانے کا مشورہ دیتے ہیں:

  1. پاسپورٹ۔ جلدی اپلائی کریں؛ اس کے بغیر باقی سب بیکار ہے۔
  2. بیچلرز ڈگری اور ٹرانسکرپٹ، پاکستان میں HEC سے اٹیسٹ شدہ (انڈیا میں ڈگری دینے والی یونیورسٹی اور متعلقہ ادارے سے)۔ کبھی کبھی چھ یا سات سمسٹر کے بعد پروویژنل ٹرانسکرپٹ پر بھی اپلائی ہو جاتا ہے، لیکن قیصر کا مشورہ ہے کہ پہلے ڈگری مکمل کر لیں۔
  3. ریکمنڈیشن لیٹر اپنے ڈیپارٹمنٹ یا فیکلٹی کے کسی پروفیسر سے۔
  4. زبان کا ثبوت: IELTS، TOEFL یا PTE، یا انگریزی پروفیشنسی (MOI) لیٹر جس میں لکھا ہو کہ آپ کا بیچلرز انگریزی میں پڑھایا گیا تھا۔
  5. Europass فارمیٹ میں CV، جو جرمن یونیورسٹیاں سب سے زیادہ دیکھتی ہیں۔
  6. موٹیویشن لیٹر یا اسٹیٹمنٹ آف پرپز، اسی پروگرام کے لیے لکھا ہوا۔
  7. GRE یا GMAT، صرف اگر پروگرام مانگے۔ کچھ اونچی رینکنگ والے پروگرام، زیادہ تر کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس اور چند انجینئرنگ کورسز، یہ مانگتے ہیں؛ زیادہ تر نہیں مانگتے۔
  8. اضافی چیزیں جو فائدہ دیتی ہیں: کسی بھی جرمن کورس کا سرٹیفکیٹ، انٹرنشپ لیٹرز اور ورک سرٹیفکیٹس۔

اپلائی کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ آپ کی یونیورسٹی اور ڈگری anabin میں موجود ہیں؛ ڈگری تسلیم کروانا والی گائیڈ بتاتی ہے کہ H+ ریٹنگ کیسے پڑھیں۔ انڈیا کے اپلیکنٹس کو تقریباً ہمیشہ APS سرٹیفکیٹ بھی چاہیے ہوتا ہے، یعنی انڈیا میں جرمن ایمبیسی کے APS آفس سے ان کے تعلیمی ڈاکومنٹس کی جانچ۔ پاکستان کے لیے APS کا کوئی پروسیس نہیں ہے۔ حوالہ: india.diplo.de · جانچا گیا 7 نومبر، 2026

DAAD ڈیٹا بیس میں پروگرام ڈھونڈیں

اپنی لمبی ویڈیو میں قیصر یہ سرچ لائیو کر کے دکھاتے ہیں۔ طریقہ یہ ہے:

  1. DAAD انٹرنیشنل پروگرامز ڈیٹا بیس کھولیں۔
  2. کورس ٹائپ میں Master، کورس لینگویج میں English، اور اپنا مضمون منتخب کریں۔
  3. اگر خرچ اہم ہے تو no tuition fees پر ٹک کریں، اور وہ سمسٹر چنیں جس میں آپ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
  4. کوئی پروگرام کھولیں اور اس کی شرائط لائن بہ لائن پڑھیں: کون سی ڈگری چاہیے، کم از کم گریڈ کیا ہے (اکثر جرمن اسکیل پر لکھا ہوتا ہے، جہاں 1.0 سب سے اچھا ہے)، اور نان-EU اپلیکنٹس کی ڈیڈ لائن کیا ہے، جو اکثر EU والوں سے پہلے ہوتی ہے۔

ہو سکے تو ونٹر سمسٹر کے لیے اپلائی کریں

جرمن یونیورسٹیاں سال میں دو بار داخلہ دیتی ہیں۔ ونٹر سمسٹر اکتوبر میں شروع ہوتا ہے اور سمر سمسٹر اپریل میں۔ زیادہ تر پروگرام ونٹر کے لیے داخلہ دیتے ہیں، اور کم ہی سمر کے لیے بھی کھلتے ہیں، اس لیے ونٹر میں آپ کے پاس کہیں زیادہ آپشنز ہوتے ہیں۔ کچھ یونیورسٹیاں اپلیکیشنز آتے ہی پروسیس کرتی ہیں، اس لیے جلدی اپلائی کرنے کا فائدہ ہوتا ہے۔

ایڈمیشن لیٹر مل جائے تو اگلا قدم ویزا ہے: اسٹوڈنٹ ویزا کی دو شرائط۔

قیصر کی ویڈیو دیکھیں

یہ مضمون ان ویڈیوز کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ اقتباسات قیصر کی ویڈیوز سے ہیں، معمولی تدوین کے ساتھ۔

لوگ کیا پوچھتے ہیں

کیا جرمنی میں ماسٹرز کے لیے IELTS لازمی ہے؟

نہیں، ہر جگہ نہیں۔ انگریزی میں پڑھائے جانے والے بہت سے پروگرام آپ کی یونیورسٹی کا میڈیم آف انسٹرکشن (MOI) لیٹر مان لیتے ہیں؛ کچھ IELTS، TOEFL، PTE یا Cambridge سرٹیفکیٹ مانگتے ہیں۔ فیصلہ پروگرام کا ایڈمیشن پیج کرتا ہے۔

کیا میں 14 سال والی بیچلرز ڈگری کے ساتھ اپلائی کر سکتا ہوں؟

ماسٹرز کے لیے عام طور پر 16 سال کی تعلیم چاہیے۔ اپنے ملک سے دو سال کا بیچلرز اور اس کے بعد دو سال کا ماسٹرز عموماً مان لیا جاتا ہے۔ anabin میں دیکھیں کہ آپ کی ڈگری کی ریٹنگ کیا ہے، اور یونیورسٹی سے پوچھ لیں۔

جرمنی میں ماسٹرز کے لیے کب اپلائی کرنا چاہیے؟

زیادہ تر پروگرام ونٹر سمسٹر (اکتوبر) میں شروع ہوتے ہیں؛ نان-EU اپلیکنٹس کی ڈیڈ لائن اکثر EU والوں سے پہلے ہوتی ہے۔ کچھ پروگرام سمر سمسٹر (اپریل) کے لیے بھی داخلہ دیتے ہیں۔ ہر پروگرام اپنی ڈیڈ لائن خود بتاتا ہے۔

کیا مجھے GRE یا GMAT چاہیے؟

صرف کچھ پروگراموں کے لیے، زیادہ تر کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس، بزنس اور چند انجینئرنگ کورسز میں۔ زیادہ تر پروگرام یہ نہیں مانگتے۔

سرکاری ذرائع

کسی ویڈیو کے بارے میں سوال ہے؟ قیصر سے کمنٹس میں پوچھیں: Instagram یا YouTube۔

یہ عمومی معلومات ہیں، قانونی مشورہ نہیں۔ قوانین بدلتے رہتے ہیں۔ اوپر دیے گئے سرکاری حوالے کو ضرور دیکھیں؛ آپ کے کیس کا فیصلہ جرمن مشن (ایمبیسی یا قونصلیٹ) کرتا ہے۔

مفت ریڈی نیس چیک →